پاکستانی کھانوں کی تاریخ
پاکستانی کھانے اپنے تیکھے مصالحوں، خوشبو اور لازوال چٹخارے کی وجہ سے دنیا بھر کے پیٹوؤں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر کا اپنا ایک خاص ذائقہ ہے، جیسے لاہور کے پائے، کراچی کی بریانی اور پشاور کی چپلی کباب۔ مگر کیا آپ نے کبھی اس لذیذ کھانے کی تاریخ کے بارے میں سوچا ہے؟
In-Article Inline Ad Box Place
Suggested Size: 336x280 px
Inserted dynamically after paragraph intro
پاکستانی پکوان برصغیر، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کا ایک نہایت خوبصورت سنگم ہیں۔ مغل بادشاہوں نے ہمارے کھانوں میں نفاست اور شاہی پن ڈالا۔ پائے، حلیم اور مختلف قورمے مغلائی باوچی خانے کی ہی ایجاد ہیں جہاں زعفران، بادام اور ملائی کا کثرت سے استعمال شروع کیا گیا۔
بریانی کی ایجاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مغل ملکہ ممتاز محل کی ایجاد تھی جنہوں نے فوجیوں کی کمزوری دیکھ کر چاول، گوشت اور مصالحوں کے ساتھ ایک مکمل اور مقوی غذا تیار کرنے کی ہدایت کی۔ آج کراچی کی نہاری اور بریانی ملکی فخر کی علامت ہیں۔
پلیٹس میں گوشت کی کثرت کا تعلق ہمارے وسطی ایشیائی ثقافتی اثرات سے ہے جہاں باربی کیو اور دم پخت پختونوں کی روایات سے ہوتے ہوئے پورے ملک میں پھیل گئے۔ ہمارے روایتی دسترخوان مہمان نوازی اور محبت کا سب سے بڑا مظہر ہیں جن کا ذائقہ عمر بھر نہیں بھولتا۔