ڈالر کی قیمت پاکستان پر کیا اثر ڈالتی ہے
پاکستان میں جب بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ہمارا روزمرہ کا خرچہ تو روپوں میں ہوتا ہے، پھر ایک بیرونی کرنسی یعنی ڈالر کے مہنگے ہونے سے ہماری زندگیوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟
In-Article Inline Ad Box Place
Suggested Size: 336x280 px
Inserted dynamically after paragraph intro
اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بہت سا سامان باہر سے منگواتا ہے جسے 'درآمدات' کہتے ہیں۔ ان اشیاء میں پٹرول، ڈیزل، بجلی بنانے کا تیل، خوردنی تیل، دالیں، گیس اور موبائل فون شامل ہیں۔ ان تمام اشیاء کی ادائیگی انٹرنیشنل مارکیٹ میں صرف یو ایس ڈالر میں کی جاتی ہے۔
جب روپیہ گرتا ہے اور ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو حکومت کو ان اشیاء کی درآمد کے لیے زیادہ روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پٹرول اور بجلی فورا مہنگی کر دی جاتی ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور مقامی سطح پر اگنے والی سبزیاں اور اجناس بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔
ڈالر کا اونچا ہونا فری لانسرز اور ایکسپورٹرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ انہیں ڈالر میں آمدنی ملتی ہے لیکن ملکی مجموعی معیشت کے لیے یہ نقصان دہ ہے کیونکہ ملکی بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے برآمدات اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔