عرب ویلتھ انڈیکس میں پاکستانی تارکین وطن کا کردار
جب ہم عرب ویلتھ انڈیکس یا خلیجی ممالک کی کھربوں ڈالرز کی دولت پر بات کرتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس عظیم تعمیر اور خوشحالی کے پچھلے 50 سالہ سفر میں پاکستانی تارکین وطن (Pakistani Diaspora) کا خون پسینہ شامل ہے۔ خلیجی ممالک کی تعمیر و ترقی میں پاکستانیوں کا کردار بے مثال ہے۔
In-Article Inline Ad Box Place
Suggested Size: 336x280 px
Inserted dynamically after paragraph intro
اس وقت خلیج (GCC) کے ممالک میں تقریباً 40 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جن میں مزدوروں سے لے کر اعلیٰ ترین ڈاکٹروں، بینکاروں اور انجینئرز شامل ہیں۔ یہ افراد خلیجی معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں دن رات کوشاں ہیں اور بدلے میں پاکستان کو سالانہ 25 سے 30 ارب ڈالرز کا قیمتی زرمبادلہ بھیج رہے ہیں۔
ترسیلات زر (Remittances) کا یہ پیسہ پاکستان کے مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کا سب سے بڑا واحد تکیہ ہے۔ اگر خلیجی ممالک میں موجود ہمارے محنتی دستانے نہ ہوں تو پاکستان کے لیے غیر ملکی سامان پٹرول اور گیس خریدنا ناممکن ہو جائے۔ اس لیے تارکین وطن کو ہیرو مانا جاتا ہے۔
سعودی عرب اور امارات کے مقامی قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد اب پاکستانی پروفیشنلز کی نوکریوں کے لیے مہارت کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ اب بلڈرز اور معماروں کی جگہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیکل ہائی ٹیک اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والے نوجوانوں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستانی اداروں کو اب عالمی معیار کی ٹریننگ دینا ہوگی۔