رمضان میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں
ماہ رمضان ایک انتہائی بابرکت مہینہ ہے جو ہمیں روحانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ اپنے جسمانی نظام کو بھی ری سیٹ کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ افطار میں تلی ہوئی اور بھاری چیزوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگوں کا معدہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
In-Article Inline Ad Box Place
Suggested Size: 336x280 px
Inserted dynamically after paragraph intro
سحری ہمیشہ ہلکی پھلکی اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہونی چاہیے جو آہستہ آہستہ ہضم ہو کر دن بھر توانائی فراہم کریں۔ سحری میں دہی کا استعمال لازمی کریں کیونکہ یہ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ جو کا دلیہ، انڈے اور لال آٹے کی روٹی بہترین انتخابات ہیں۔ بہت زیادہ چائے پینے سے گریز کریں کیونکہ یہ جسم سے پانی خارج کرتی ہے۔
افطار کے وقت سنت کے مطابق کھجور سے روزہ کھولیں۔ کھجور فوری طور پر جسم کو گلوکوز مہیا کرتی ہے۔ افطار میں بازاری پکوڑے، سموسے اور تیزابی مشروبات کی جگہ پھلوں کی چاٹ اور لیموں پانی کا استعمال کریں۔ اکھٹے بہت زیادہ کھانا کھانے کی بجائے وقفے وقفے سے کھائیں۔
سحر و افطار کے درمیان کافی مقدار میں پانی پیئیں تاکہ دن بھر کی پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ سافٹ ڈرنکس اور چینی والے شربت غنودگی پیدا کرتے ہیں، ان کی جگہ سادہ پانی، ناریل کا پانی یا کچی لسی پیئیں۔ ان آسان ہدایات پر عمل کر کے آپ کا روزہ آسان اور صحت بخش گزرے گا۔